بنگلور:4/جون (ایس او نیوز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کادو روزہ ریاستی نمائندہ کونسل گزشتہ یکم اور 2جولائی کومیسور میں منعقدہوا۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر ایڈوکیٹ شرف الدین احمد نے پرچم کشائی کرکے جلسے کا آغاز کیا۔ ریاستی نمائندہ کونسل (State Representative Council Karnataka) میں مختلف اضلاع سے آئے ضلع عاملہ اوراسمبلی کمیٹیوں کے اراکین نے شرکت کی۔
ریاستی نمائندہ کونسل میں انتخابات کے ذریعہ آئندہ تین سال کی میعاد کے لیے 21رکنی ریاستی ورکنگ کمیٹی کاانتخاب کیاگیا جس کے تحت ریاستی صدر کے طورپر الیاس محمد کا انتخاب عمل میں آیا، جبکہ ریاستی نائب صدور کے طورپر دیوانورپتنن جیا، عبدالمجید، ریاستی جنرل سکریٹریان کے طورپر عبدالحنان، ریاض فرنگی پیٹ، ریاستی سکریٹری کے طورپر اکرم حسن، الفانسو فرانگو، افسر کوڈلی پیٹ، اشرف ملہار اور ریاستی خازن کے طورپر محمد جاوید اعظم منتخب ہوئے اسی طرح ریاستی ورکنگ کمیٹی اراکین کے طورپر عبداللطیف، عبدالرحیم پٹیل، ایڈوکیٹ مجید خان، جلیل کے، ابرار احمد، کمارسوامی، مجاہد پاشاہ، فیاض احمد، امجد خان، امین محسن، سمیع منتخب ہوئے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید نے منتخب ریاستی عہدیداران کے ناموں کا اعلان کیا۔
اس موقع پر ایس ڈی پی آئی قومی، نائب صدر ایڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے جمہوری ملک ہندوستان میں ایک فرد کو ایک ووٹ کا حق مساوات کی بنیاد پر دیاگیاہے۔ ہندوستانی شہری چاہے وہ کسی بھی مذہب یا ذات پات سے تعلق رکھتا ہو، امیر ہو غریب ہو سب کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ آج کی صورتحال کا اگر ہم جائزہ لیں گے تو پتہ چلے گا ہمارے ملک میں عدم مساوات عام ہوچکی ہے۔ مذہب کے درمیان اونچ نیچ، ذات پات کے درمیان اونچ نیچ، ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کے درمیان دوریاں عام ہوچکی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ آج سیاسی پارٹیاں اور حکمران جماعتوں نے اپنے اقتدار کاغلط استعمال کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوک اور خوف سے آزادی اور تمام کو مساوات فراہم کرنے کے مقصد کے تحت 21/جون 2009ء کو ایس ڈی پی آئی کا قیام عمل میں آیا۔
اس موقع پر سابق ریاستی جنرل سکریٹری عبداللطیف نے گزشتہ 2015-18تین سال کے میعاد کی پارٹی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔ ریاستی صدر منتخب ہونے پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے الیاس محمد نے کہا کہ ان پر جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے وہ اس ذمہ داری کو پوری ایمانداری کے ساتھ نبھائیں گے اور تمام طبقات کو ساتھ لیکر چلتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کو کرناٹک میں مزید مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔